All Articles

قرض کی خرابیاں

قرض کی خرابیاں :قرض کے باعث کتنے ہی جڑے ہوئے دل بچھڑ جاتے ہیں، اپنوں میں بیگانی اور دوستوں میں دشمنی پیدا ہوجاتی ہے۔ بغیر کسی اشد مجبور ی کے قرض کی جانب وہی قدم بڑھائے گا جسے محبت، اخوت اور دوستی اور جنازہ اپنے ہاتھوں سے نکالنا ہو۔

قرض ایک قسم کا عذاب ہے جیساکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ شروع میں یہ رنج والم لاتاہے اور آخری میں لڑائی جھگڑے کا باعث بنتا ہے لہٰذا کسی خاص مجبوری کے بغیر اس عذاب کو اپنے اوپر مسلط کرلینا دانشمندی نہیں ہے۔ اگروہ رقم یا سامان با نیت ِقرض یا بدلہ دیا گیا ہے تو لینے والوں پر اس کی ادائیگی واجب ولازم ہے اگر کسی وجہ سے وہ رقم یا سامان ادا نہ کرسکا اور دینے والوں نے معاف بھی نہ کیا توآخرت میں اس پر باز پرس ہوگی۔   

اس سے بچنے کی واحد صور ت یہ ہے کہ ان کے دینے والوں سے پہلے ہی صاف صاف کہہ دیا جائے کہ جو صاحب بطورِ امداد دینا چاہیں حرج نہیں اگر مجھ سے ممکن ہوا تو اُن کی تقریب میں بھی امداد و اعانت کروں گا اور اگر بدلہ کی نیت وارادے سے دے رہے ہیں تو میں قرض لینانہیں چاہتا اگر میں بلاوجہ کسی دوسری وجہ سے دے نہ سکا تو گنہگار ہوں اور معاف نہ ہونے کی صورت میں حشر میں اس کا مواخذہ ہوگا۔ یہ کہنے کے بعد جو شخص اس کو رقم یا سامان دے گا تو وہ اس کے ذمہ قرض نہ ہوگا۔

فقیر اُویسی غفرلہ کا یہی معمول رہا الحمد للہ وقت آرام سے گزرا اگر ہدیۃً دینے کے باوجود اس رقم یا سامان کا مطالبہ کرے اور ادا نہ کرنے کی صورت میں طعن و تشنیع کرے تو اس کی یہ حرکت ایذائے مسلم ہے جو حرام وگناہ ہے۔

فائدہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اَلْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ([1]) یعنی ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو اپنی قے چاٹ لیتا ہے۔

مسئلہ: د ی ہوئی چیز واپس لینی نہیں چاہیے کیونکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قے چاٹنے سے تشبیہ دی ہے جس طرح کتے کا قے کرکے چاٹ لینا ہر طبیعت کے لئے باعثِ نفرت ہے یونہی عطیہ دے کر واپس لینا ہر شخص کو بُرا معلوم ہونا چاہیے اسے واپس لینا بدخلقی اور بے مروتی کی دلیل ہے۔

یہ ایک عجیب مثال ہے کیونکہ کتے کے علاوہ کوئی جانور اپنی قے نہیں چاٹتا لہٰذا ہمیں بھی اس حرکت سے بچنا چاہیے تاکہ یہ قول ہم پر صادق نہ آئے۔



[1] )  (سنن ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب الرجوع فی الھبۃ، 3/466،الحدیث:2377،دار الرسالة العالمية،الطبعة: الأولى، 1430 هـ - 2009 م)