• رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کا بیج دل میں بوؤیونہی آپکے ادب اور تعظیم کو جانِ ایمان س
  • انبیاء و اولیاء سے عقیدت رکھو ان کے آداب اور اعزاز میں کمی نہ کرو۔ یو نہی علمائے اہلسنت کے ساتھ پیش
  • اپنے رتبے سے بڑھ کر دعویٰ نہ کرو۔ہر وقت عجز وتواضع میں رہو۔
  • جس لیاقت کا جو آدمی ہو اس کی ویسی ہی عزت کرو۔
  • ہر اک کا حق پہچانو۔
  • جو راز کہنے کے قابل نہ ہو اُس کو منہ سے ہر گز نہ نکالو۔
  • دوست کی پہچان یہ ہے کہ وقتِ مصیبت کام آئے۔
  • احمق اور نادان آدمی کی صحبت سے کنارہ کرو۔
  • عقلمند اور دانا آدمی سے دوستی کرو۔

Most Viewed

  • Sharah Hadees e Qustuntunia

    Sharah Hadees e Qustuntunia

  • Yazeed Kay Ghazi

    Yazeed Kay Ghazi

  • Assalato Wassalamo Alaika Yaa Rasool Allah Parhne kaa Jawaaz

    Assalato Wassalamo Alaika Yaa Rasool Allah Parhne kaa Jawaaz

  • Azaan Wa Salat o Salam

    Azaan Wa Salat o Salam

 

Darhi Sunnat e Rasool Ki Ahmiat (داڑھی سنت رسول کی اہمیت)

Rating
Author
Faiz-e-Millat Mufti Faiz Ahmed Uwaysi
Language
Urdu
Category
Islahi Kutub (اصلاحی کتب)
Total Downloads
632
Total Views
3889
Date
2013-07-30
Total Pages
15
ISBN No
N/A
Read Online
Open Book
Download
Download (PDF)
Description:

At present following every legitimate issue and convincing others to follow is a big Jihaad. Especially, following the sunnah of Holy Prophet (peace be upon him), as the follower of sunnah will be rewarded like 100 martyrs. Particularly keeping beard according to sunnah. Saints of the present era are also the enemies of beard (according to sunnah). Some of them shave their beards and some keep very small beards (unlike that of sunnah). In this booklet, qibla Faiz e Millat has shared fatawa of scholars proving that shaving off the beard or making it less than a handful is forbidden in Islam & is regarded as GREAT SIN, whether it is committed by a Saint, Molvi or even Imaaam of Ka’aba.

دورِحاضرہ میں ہر شرعی مسئلہ پر عمل کرنا اور دوسروں کو عمل کرانا 'جہادِاکبر' ہے۔  خصوصاً رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنتوں پر عمل کرنے سے سوشہیدوں کا ثواب ملتا ہے ۔بالخصوص داڑھی رکھانا کیونکہ عین سنّت کے مطابق داڑھی والا معاشرے میں معزز شخصیت سمجھا جاتا تھا مگرآج داڑھی والے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آج جن پیروں اور گدی نشینوں کو ہم عوام بارگاہئ خداوندی کا وسیلہ سمجھتے ہیں اُن میں اکثر داڑھی کے دشمن ،ورنہ کم از کم وہ خود منڈاتے یا خشخشی داڑھی کے عادی ہیں۔ علامہ فیضِ ملت نے یہ رسالہ علماء کرام کے فتاویٰ سے مزّین کرکے اَہلِ اسلام پر ثابت کیا کہ داڑھی منڈوانا اور مٹھی بھر سے کم کرنا حرام اور گناہ کبیر ہ ھے چاہے اِس کا مرتکب پیر ہو یا مولوی یا حرمِ کعبہ کا امام۔

 
comments