• رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کا بیج دل میں بوؤیونہی آپکے ادب اور تعظیم کو جانِ ایمان س
  • انبیاء و اولیاء سے عقیدت رکھو ان کے آداب اور اعزاز میں کمی نہ کرو۔ یو نہی علمائے اہلسنت کے ساتھ پیش
  • اپنے رتبے سے بڑھ کر دعویٰ نہ کرو۔ہر وقت عجز وتواضع میں رہو۔
  • جس لیاقت کا جو آدمی ہو اس کی ویسی ہی عزت کرو۔
  • ہر اک کا حق پہچانو۔
  • جو راز کہنے کے قابل نہ ہو اُس کو منہ سے ہر گز نہ نکالو۔
  • دوست کی پہچان یہ ہے کہ وقتِ مصیبت کام آئے۔
  • احمق اور نادان آدمی کی صحبت سے کنارہ کرو۔
  • عقلمند اور دانا آدمی سے دوستی کرو۔

Most Viewed

  • Sharah Hadees e Qustuntunia

    Sharah Hadees e Qustuntunia

  • Yazeed Kay Ghazi

    Yazeed Kay Ghazi

  • Assalato Wassalamo Alaika Yaa Rasool Allah Parhne kaa Jawaaz

    Assalato Wassalamo Alaika Yaa Rasool Allah Parhne kaa Jawaaz

  • Azaan Wa Salat o Salam

    Azaan Wa Salat o Salam

 

Tareekh Tameer e Kaaba (تاریخ تعمیر کعبہ)

Rating
Author
Faiz-e-Millat Mufti Faiz Ahmed Uwaysi
Language
Urdu
Category
Tareekh (تاریخ)
Total Downloads
649
Total Views
1958
Date
2013-07-16
Total Pages
15
ISBN No
N/A
Read Online
Open Book
Download
Download (PDF)
Description:
  • Kaaba is the name of that Square room which is covered by a Black Cloth. The one who sees Kaaba when he is Muslim gets salvation. First of all Kaaba was built by Hazrat Adam and that holy building became stable untill Storm of Noah Alaeh Salam. After Hazrat Adam Alaeh Salam left this world, his sons gathered a few stones and build the building. In this book, Huzur Faiz e Millat (May Allah's mercy be upon him) has written the history of infrastructural development of the holy Kaaba (The House of Allah Almighty).

    کعبہ اس گھر کا نام ہے جو سیاہ غلاف اوڑھے ہوئے ہے اور مسلمانوں کی عبادت کا مرکز ہے۔ جس نے کعبہ کو ایمان کی حالت میں دیکھا اس کی بخشش کر دی گئی۔ سب سے پہلے کعبہ معظمہ کو حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا اور یہ عمارت طوفان نوح تک باقی رہی۔ اس کے بعد آپ کے بیٹوں نے کچھ پتھر جمع کر کے دوبارہ اس عمارت کی تعمیر کی۔ اس رسالے میں حضور فیض ملت علیہ الرحمہ نے خانہ کعبہ کی تعمیر مختصر مگر دلچسپ پیرائے میں بیان فرمائی ہے۔

     

     

 
comments